علم کے وارث…… تحریر عاصم علی

Screenshot_2016-04-10-16-02-22-1  ہم زندہ قوم ہیں یہ مصرعہ سنتے ہی مرے تنِ مردہ میں دردِ شرمساری کا دریا تلاطم خیز موجیں مارنے لگتا ہے۔ اور  ضمیر مجھ پر کبھی طعن و تشنیع کے نشتر چلانے کی کاوش کرتا ہے تو کبھی میری بے بسی پر چلاتا ہے کبھی میری سرد روی مٹانے کے لیے لیکچر دیتا ہے کل بھی کچھ ایسا ہی ہوا مجھے کہتا ہے تمہارے پاس سب کچھ موجود ہے پھر بھی تم کنگال ہو ۔ تمہاری قوم ابھی تک نا بالغ ہے نہ اسے کسی چیز کا صحیح استعمال کرنے کا شعور ہے نہ وہ کچھ کرنا چاہتی ہے ۔ تمہارے معاشرے کا یہ بہت بڑا المیہ ہے “نہ تو خود کچھ کرتے ہیں نہ کسی اور کو کچھ کرنے دیتے ہیں ” اور اگر کوئی اچھے کام کا بیڑہ اٹھاۓ تو تم لوگ حوصلہ افزائی کے بجاۓ حوصلہ شکنی کرتے ہو۔ اور حوصلہ شکنی کی ثقافت کو فروغ دے کر تم خود کو فلسفی سمجھنے کے مغالطے میں پڑ جاتے ہو۔ میں شرمندہ شرمندہ سر جھکاۓ سوچ رہا تھا اور ہر الزام نشانے پر لگتا گیا اور ساری حقیقت لائیو مووی کی مانند میرے سامنے چلنے لگی۔ کھیل سے لے کر علم و ادب تک ہر شعبے میں لاپرواہی ہوتی نظر آ رہی تھی۔مگر میں آج صرف آیک موضوع پر رقم طرازی کی جسارت کروں گا.۔

پاکستان میں تقریباَ 120 پبلک لائبریریز ہیں جبکہ 300 قومی اسمبلی کے حلقے۔تقریبا 3 حلقوں کے پاس 1 لائبریری آتی ہے۔کالج اور یونیورسٹیوں کے اندر لائبریریز تو ہیں مگر شاذونادر ہی کوئی ان سے مستفید ہوتا ہے۔چند معروف یونیورسٹیز اورپبلک لائبریریز کے علاوہ یا تو بند پڑی ہوئی ہیں یا کوئی وہاں جا کر ٓپڑھنے کی زحمت نہیں کرتا۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کی وجہ نہ تو موبائل فون کا زیادہ استعمال اور نہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ہے فقط پڑھنے سے خواہش اور دلچسپی میں کمی ہے۔ساری دنیا میں موبائل سوشل میڈیا کا استعمال ہورہا ہے ۔لیکن حقیقت میں باقی دنیا کتابوں سے حقیقی لگاؤ رکھتی ہے۔اس لیے ان کی لائبریریز آباد اور ہماری ویران ہیں۔

ہمارے سرکاری سکولوں کالجوں میں لائبریریز کا تصور تک نہیں اور جو ادارے ان سہولیات سے آراستہ ہیں وہاں کے اساتذہ کو یہ توفیق نہیں کہ طلباء میں کتب بینی کا شوق پیدا کر سکیں ۔میرے خیال میں ہر سکول میں ایک لائبریری لائبریری کی قکلاس کا اہتمام کیا جاۓ اور اس ہر سختی سے عمل درامد کرایا جانا چاہیے۔

لیکن اس سب کے باوجود علم سے محبت کرنے والے اپنا کام زوروشور سے جاری رکھے ہوئے ہیں. اور کئی غیر ملکی ادارے اپنا کام بڑیخوش اسلوبی سے جاری رکھے ہوئے ہیں ان میں سے ایک نام لنکن کارنر ہیں۔

پاکستان میں چند بڑی پبلک لائبریریوں اور یونیورسٹیوں میں “لنکن کارنر” بناۓ گۓ ہیں ان کی کل تعداد 17 ہے ۔ ہمارے ملک کے اکثر لوگوں کو گلہ ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں جدید طرز کی لائبریریز کی قلت ہے لیکن اس کمی کوکچھ حد تک لنکن کارنرز نے پوری کرنے کی کوشش کی ہے۔

لنکن کارنرز امریکہ کی مدد سے ملک کے مختلف شہروں مین جدید سہولیات کے ساتھ آراستہ کر کے بنائی گئۓ ہیں جن میں بک بینک ، انٹرنیٹ، کمپیوٹر ، سی سی ٹی وی لیب ،سکیننگ ،پرنٹننگ ، کے ساتھ ساتھ لینگوئج کورسز اور مقابلے کے امتحانات ، تیاری کے لیے کتابیں اور بچوں کے لیے اسپیشل سیکشن بناۓ گۓ ہیں ۔اس کے علا وہ اسپیشل تعلیم کے لیے سیمینارز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ان کارنرز زمیں اسپیشل طلباء کے لیے مخصوص آلات کا اہتمام کیا گیا ہے۔

ان کارنرز کی ممبر شپ بھی حاصل کی جا سکتی ہے جو کہ بالکل مفت ہوتی ہے۔اور ساتھ رضاکارانہ طور پرکام کرسکتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفیذ ہو سکیں اس کی ممبر شپ کے لیے ایک عدد تصویر اور قومی شناختی کارڈ کی کاپی کی ضرورت ہے۔اس کے بعد آپ ہمیشہ کے لیے ممبر بن جائیں گے۔اور فرینڈز کارنر میں کام کر کے اپنی قابلیتوں کو نکھارنے کا Untitled-1موقع حاصل کرسکتے ہیں ۔

اس کے علاوہ میلسی میں 2 بھائیوں نے ایک پاکستان کی سب سے بڑی پرائیویٹ لائبریری قائم کی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں ایسے اداروں سے نہ صرف مستفیذ ہونا چاہئے بلک ان کے فروغ کے لیے ہر ممکن کاوشیں کرنی چاہیے تاکہ جہالت کے ساۓ چھٹ جائیں اور امن و محبت سے آراستہ صبح طلوع ہو جاۓ ۔

میری حکومتِ پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ ملک کے جن شہروں میں لائبریریز تو ہیں مگر کافی عرصے سے بند پڑی ہیں ان کو فوراََ کھول کر اس میں رکھی کتابوں پر نظر ثانی کرے اور ساتھ ہی نئی کتب کا بندوبست کرے۔

Views All Time
102
Views Today
1
(Visited 137 times, 1 visits today)

One Comment

  1. Hassan fareed

    bht acha likha hai jnb

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

2 + 6 =