عورت اور بلوچ معاشره

         عورت کسی بھی معاشرےکی بقا اور تعمیر و ترقی کےلیے خاص کردار ادا کرسکتی هے. عورت کو کسی معاشرے میں 2016-03-20_23.24.52خاص مقامات دیے گئے اور مکمل آزادی ملی جب کہ کسی معاشرے میں  حقوق اور آزادی سے محروم کیا جاتا رها. اسطرح بلوچ معاشرے میں بھی عورت کبھی کھل کر سامنے آئی اور اپنی آزادی کیساتھ ساتھ جنگوں اور دوسرے عوامل میں بڑھ چڑھ کے حصه لیا جبکہ کسی دور میں پابندیاں لگا دی گئیں۔

  کسی بھی معاشرے علاقه پر مذھب کا اثر هوتا هے. اسکے پرچار کرنے والوں کی سخت تعلیمات نے عورت کی آزادی اور اسکے حقوق کو کم کیا اور بہت اثر انداز هوۓ جیسا   که اک ربی فرما تے تھے ” عورت کو خاموشی سے خدمت کاری کرنی چاھیے” اسطرح پادری سینٹ پال فرماتے تھے “مرد عورت کےلیے پیدا نهیں بلکه عورت مرد کےلیے پیدا هوتی هے. لهذا عورت کو کم درجه پر رهنا چاهیے” اسطرح جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق صاحب کے گڑھ دیر میں عورتوں کو 1970,77 انتخابات کے بعد حصه نهیں لینے دیا گیا. جبکه امیر جماعت اسلامی فرماتے هیں ” لازمی نهیں که عورت ووٹ ڈالے” مولانا فضل الرحمن صاحب اور سراج الحق صاحب نے حال هی میں عورت پر تشدد کے خلاف بل منظوری پر کڑی تنقید کی اور اسلامی اقدار کے سخت مخالف قرار دیا. سخت تعلیمات اور سخت بیانات کے باوجود کچھ عورتیں مردوں کے شانه بشانه محنت کررهی هیں اور ترقیوں کی طرف رواں دواں هیں. بعض ادوار میں عورت کو بهت آزادی حقوق اور ترقی میسر هوئی.۔

بلوچ قوم کے اردگرد قبائل اور ان علاقوں کی تبدیلیوں نے بلوچ قوم پر بھی مثبت اثرات ظاهر کیے جیسا که 1919 میں افغان صدر امان الله نے عورتوں کی تعلیم پر زور دیا بلکه انکو تعلیم حاصل کرنے بیرون ممالک بھیجا گیا. اسطرح عورتوں نے ایران میں شاه کے مخالف بهت احتجاج کیے. ایران میں شاه کے خلاف بغاوت میں بی بی ناز بلوچ نے اسلحه سنبھالا. پاکستان میں 1973 کے آئین میں عورتوں کو حقوق ملنے سے عورتیں تعلیمی نوکری اور دوسرے معاملات میں آگے بڑھیں پنجاب کے بلوچ علاقه تونسه شریف میں شرح خواندگی آسمان کو چھونے لگا اور کئی خواتین ڈاکڑ انجینر بننیں. ڈاکڑ منزه بتول بلوچ جو که آسان بلوچی اردو بول چال کی مصنف هیں وه بھی پنجاب کے سب سے کم ترقی یافته علاقے ڈی جی خان سے پڑھی هیں. کچھ صدیوں پهلے بلوچ معاشره میں عورتوں کو سیاسی آزادی تھی. وه جنگوں میں چال بدلنے سے لےکر گھریلو معاملات میں Untitledحصه لیتی تھیں. حانی بلوچ نے دشمن کے هاتھیوں کے لشکر کو اونٹوں پر لدی لکڑی جلا کر دشمن کا اپنا لشکر روندا ڈالا. گوهر بلوچ نے رند و لاشار کو جنگوں سے روکنے کی کوشش کیں. مهناز بلوچ نے اس دور میں اپنے حقوق کے لیے شعر و شاعری کی. خان آف قلات کی بهن نے لشکر کی قیادت کرتے هوۓ دشمن کو شکست دی. بی بی زینب بلوچ نے اپنے بھائی کے قتل کا بدله لینے کے لیے بهت بڑا لشکر تیار کرکے بهائی کا بدله لیا۔ بهائی بلوچ معاشرے میں مضافاتی قوموں کیوجه سے سختی آچکی هے. مستونگ میں بچیوں کا اسکول بند کرانا هو یا بچیوں پر تیزاب ڈالنا هو بلوچ روایات اور تاریخ کے مخالف سمت جارها هے. کچھ علاقوں میں وراثت میں حصه نهیں دیا جاتا کچھ میں حاصل کرنے میں پابندی هے.

پنجاب میں گھریلو تشدد کے خلاف بل منظور هونا اک قابل تعریف عمل هے جسکو بڑھنا چاهیے اسطرح معاشرتی برائی اپنی بهن بیٹی کو جھوٹے الزامات کی بنا پر قتل کرنا هو یا سیاه کاری تمام معاشرتی برائیوں کا علاج عورت کو تعلیم دیے جانے میں هے اور عورت کا خود کی پهچان کرنے میں هے. کامریڈ یوسف عزیز مگسی بلوچ نے انگریز کے دور میں فرمایا تھا “اک دن پهر آۓ گا جب بلوچوں کو مظلوم لڑکیوں کے حقوق دینے هوں گے۔”

Views All Time
174
Views Today
1
(Visited 144 times, 1 visits today)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

one × 2 =