لندن لندن جاؤنگا……. تحریر امجد علی

Untitled

    بچپن میں جب بھی کسی فلم میں یا ٹی وی پر ہم لندن کو دیکھتے تو ایک خواب سا لگتا تھا کہ ہم ایک ایسی دنیا کو دیکھ رہے ہیں جومثالی سی  لگتی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب بھی سکول میں دوستوں سے دیار غیر کی بات ہوتی تو انگلستان سے زیادہ تو ہمیں لندن کا پتہ ہوتاتھا۔ پھر کئی بحثوں میں اس مثالی دنیا کی اخباری باتیں ایکدوسرے سے بڑھ چڑھ کر بیان کی جاتیں۔ وہ بچپن لڑکپن اور جوانی کے کئی قصے جن میں ترقی کرنے آگے بڑھنے اور کچھ کرنے کے خواب پروئے ہوتے آج بھی ہمیں یاد ہیں۔ مگر ان سب کے بیچوں بیچ کبھی سچ میں نہ سوچا تھا کہ واقعی ایک دن قسمت ہمیں نہ صرف لندن لے جائیگی بلکہ ہمیں دیار غیر اور ترقی یافتہ دنیا کی اس اصل زندگی کو بھی دیکھنے کا موقع ملے گا جو بعض اوقات دہائیوں سے آباد لوگ بھی اس قریب سے دیکھ نہیں پاتے۔ ایک ایسی زندگی جسکی حقیقت بہت عجیب ہے۔ یہ واقعی عجیب سی زندگی ہے جسکی کئی تہہیں ہیں۔ ایک وہ زندگی ہے جو باقی ملکوں کی طرح یہاں کی ایلیٹ کی ہے جس میں دنیا بھر کی اسائیشیں اور خوشگواریاں ہیں۔ دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو ہماری ہاں کی مڈل کلاس کی طرح رات دن کام کرنے ، منصوبے بنانے ، بچت کرنے اور خواب سینچنے میں عمر گزارتا ہے۔ اسی طرح ایسے بھی لوگ لاکھوں کی تعداد میں ہیں جو ریاست کی گود میں پلتے ہیں اور انکی زندگی کسی ٹریجڈی فلم کے جیسی ہوتی ہے ۔ جس میں ہر وقت کوئی نہ کوئی مسئلہ رہتا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں رہنے والوں کو انکی زندگی بھی کسی اچھے خواب کے جیسے لگے گی جس میں نہ بھوک کی فکر ہے نہ بیماری کی ۔ نہ بچوں کے مستقبل کی طرف سے کوئی بری سوچ۔ نہ تو ہسپتال میں علاج کے مسائل اور نہ ہی ٹوٹی سڑکیں جن میں بارش کا پانی کھڑا ہو جاتا ہے۔
ان سب کے ساتھ ساتھ لندن اور باقی انگلستان میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو خود یا جن کے باپ دادا ہجرت کرکے کسی نہ کسی وجہ سے یہاں آکر بس گئے۔ ان کو بعض اوقات لندن کے لوگ بڑے بڑے عجیب ناموں سے بلاتے ہیں جن کا یہاں ذکر کرنا مناسب نہیں۔
ایسا لگتا ہے کل ہی کی بات ہے جب ایک خواب کی طرح سے محسوس کرتے کرتے ہم قطر ائیرویز کی ایک فلائٹ میں اڑ کر لندن آپہنچے۔ ہیتھرو پر ہم اس بات کو تیار تھے کہ ہمارے کپڑے اتار کر تلاشی لی جائے گی۔ کیونکہ ان دنوں میں عموما اس طرح کی خبریں ہمیں اخبارات سے معلوم ہوئی تھیں۔ کہ ہیتھرو پر کچھ الگ سا استقبال ہوتا ہے جسکے ہم یقینا عادی ہرگز نہ تھے۔ مگر یقین کیجئے “جب کپڑے بچے تو لاکھوں پائے” اور ہم گھر لوٹنے والے بدھوں کی بجائے جہاز سے اتر کر لندن کو آئے۔ آج بھی دل میں ایک حسرت رہ گئی ہے کہ اس دن جب ہمارے ایک دوست ہمیں ایئرپورٹ پر لینے آئے تو چلتے چلتے ہمیں زمین پر دو پاونڈ کا سکہ گرا ہو ملا۔پاونڈ کیلئے کہتے ہیں کہ دنیا کی بہت طاقتور چیز ہے اور ہمارے حصے آرہے تھے ایک ساتھ دو پاؤنڈ۔ اب سوچتے ہیں وہ اٹھا لیتے تو شاید اچھا شگن ہو جاتا اور ہم ترقی کی کئی منزلیں طے کر جاتے۔ یا پھر بہت کچھ کر جاتے۔ چلیں وہ احوال پھر کبھی موقع ملا تو۔
یہاں ان سالوں میں لندن کی زندگی کے کئی رنگ دیکھے۔ حسرتیں ٹوٹتی۔ لوگ روتے۔ بھڑکتے۔ مایوس ہوتے۔ پھر مایوسی سے اچانک کھلا اٹھنے کے مناظر اور بہت کچھ۔ غالباََ جتنے دن اتنے زندگی کے رنگ دیکھے۔ کالج۔ سکول ، یونیورسٹی ، گلی ، محلہ ، سڑک ، ہسپتال ،  ڈاکخانہ ، ریلوے اسٹیشن ، پارک ، گاڑی ، بس ، ریل ، گھر، سفر، تنگی، فراوانی ، دن اور رات ہر ایک جگہ اورہر رنگ کی اپنی اپنی کہانی ہوتی ہے اپنا مزاج ہوتا ہے۔
اس لندن میں لوگوں خاص کر پردیسیوں کے بھی کئی رنگ دیکھے اور کئی مزاج دیکھے۔ ایسے لوگ بھی دیکھے جو نہ صرف بڑی بڑی باتیں کرتے تھے بلکہ ساتھ ساتھ نئے آنے والوں خاص کر نوجوانوں کو نہ صرف ذلیل کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے اور بھرپور زور لگاتے کہ ایسے نوجوان دل چھوڑ کر جلد از جلد انگلستان کو چھوڑ جائیں جبکہ حضرات خود خاندانوں سمیت عجیب عجیب ہتھکنڈوں کا استعمال کرکے انگلستان کی شہریت کے چکروں میں ہوتے تھے۔ دوسری طرف ایسے بھی لوگ تھے جو اپنی ایک روٹی بھی چار لوگوں میں بانٹ کر کھانے کے قائل تھے۔ غرض لندن میں انسان اپنے بہت سے پردوں سے نکل کر آپکے سامنے عیاں ہو جاتا ہے۔ کسی نے آتے ہی ہمیں لندن کو لیکر کئی علم کی باتیں بتائیں۔ وہ سب تو یہاں اس تحریر میں سما نہ سکیں مگر کچھ کا مزا آپ بھی لیجئے۔
کہتے ہیں لندن میں چار چیزوں کا اعتبار نہیں جن کے اسپیلنگ میں W آتاہے۔ اور وہ ہیں Work, Woman, weather and wealth
اور اکثر یار دوستوں کو لندن میں رہتے ہوئے فکر بھی انہی چار چیزوں کی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اور انہی چاروں کیلئے بہت سے عجیب عجیب پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور کبھی کبھی تو یہ پاپڑ بیل تو جاتے ہیں مگر کچے رہ جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کیلئے کسی نے ایک دلچسپ بات کی ہے کہ اگر کوئی پاکستانی انگلستان میں آباد ہونا چاہتا ہو تو یاد رکھے۔ عزت۔ غیرت اور بڑائی Untitled-1کے پاکستانی اصول ترکی سے پیچھے پیچھے چھوڑ کر آئے۔ ورنہ مشکل ہوتی ہے۔
تیسری اور آخری اس طرح  کی  بات یہ ہے  کہ  یار لوگ  لندن  کو ٹھنڈی  دوزخ  کہتے ہیں ۔ اب  تک ہمیں اس منطق  کا پتہ  نہیں  چل سکا  جب چل گیا آپ کو بھی بتا دیں گے۔

پاکستان اور دنیا کے کئی علاقوں سے آئے لوگوں کی زندگی کو جلدی سے جھانکنے کا موقع بھی ملا۔ لندن گویا عجیب دنیا ہے۔ دوسرے علاقے کے لوگ جو لندن میں آتے ہیں انکے بھی عجیب رنگ ڈھنگ اور انداز ہوتے ہیں۔ سب کی دلچسپ کہانیاں ہوتی ہیں۔ کسی دور دراز دنیا کے گاؤں کی ایک بھولی بھالی لڑکی یا سادہ سا لڑکا دیکھتے دیکھتے مالی و سماجی طور پر بہت آگے بڑھ جاتا ہے اور بڑے بڑے شہروں کے امراء کی اولادیں کسی ٹیک اوے یا دوسری اوڈ جاب پر دن رات کشمکش میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں۔ غرض چالاکی۔ محنت۔ قسمت اور حکمت عملی میں سے کبھی سبھی کے سبھی اصول کام کر جاتے ہیں اور کبھی کبھی ایک ہی اصول کافی رہتا ہے زندگی کو پر سکون بنانے کیلئے۔ مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ بھی کام نہیں کرتا۔
لندن کی فضاوں میں بنائی گئی بہت سی خوبصورت تصاویر اور فلموں میں کافی کچھ نظر آتا ہے مگر نظر نہیں آتی تو وہ اندرونی ویرانی ہے جو یہاں آکر بسنے والی ہر اس پہلی نسل کے چہرے پر واضح طور پر عیاں رہتی ہے۔ ایک طرف تو یہ لوگ اپنے لوگوں ۔ کھیتوں۔ کھلیانوں۔ گھروں اور باغوں کے ساتھ ساتھ پرندوں تک کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف یہ لوگ کبھی تو اپنے اپنے وطن کے قصیدے گاتے اور قصے سناتے ہیں اور کبھی یہ اپنے اپنے ملک کے نظام مملکت اور روز مرہ کے معمولات کو موٹی موٹی گالیاں دیتے رہتے ہیں۔ انکی یہ فرسٹریشن بہت دلچسپ نوعیت کی ہوتی ہے۔
بقول مرزا اسداللہ غالب !
بوجھ وہ سر پہ گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھے
کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے
اور یہ عجیب سی بے چینی میرے جیسے اجنبیوں کے دل و دماغ میں ایسی گھر کرتی ہے کہ نہ دن کو چین نہ رات کو سکون۔ نہ پھر دیس میں سکون ملتا ہے اور نہ ہی پردیس میں۔ ایک نئی اور نامعلوم سی پہچان کی تلاش دل میں شروع ہو جاتی ہے یقیناََ ایسی ہی پہچان کے پیچھے پیچھے کولمبس نے امریکا کا راستہ دریافت کر ڈالا تھا۔ چھوڑیے اس بات کو کہ ہم کولمبس تو نہ بن سکے مگر آدھی دنیا کے پار لندن کی دنیا دیکھ لی۔

Views All Time
111
Views Today
1
(Visited 115 times, 1 visits today)

2 Comments

  1. Superb amjad ali (y)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

4 × 2 =