مرغی نے دانا پایا—- تحریر وانیہ زینب

 کسی گاؤں میں ایک مرغی رہتی تھی۔وہ بہت عقلمند تھی ۔اس کے چار ننھے منے بچے تھے۔ جن کی دیکھ بھال وہ بہت اچھے  طریقے سے کرتی تھی. صبح سویرے ان کو سیر کرانے لے جایا کرتی تھی اور وہ انہیں زندگی سے بھرپور کہانیاں سناتی تھی۔ایک صبح تالاب سے لوٹتے ہوۓ اسے ایک دانا ملا۔۔ دانے کو دیکھ کے اسے بہت خوشی ملی ۔
آیا ! یہ تو گندم کا دانا ہے۔ اگر میں اسے زمین میں بو دوں تو گندم کا پودا اگ آۓ گا۔ اور اس میں اتنی گندم آۓ گی کہ بوری بھر جاۓ گی اور میں اسے پسوانے کے لیے  چکی پر لے جاؤں  گی.
سب سے پہلے وہ ایک گاؤں میں گئی ۔ پھر اسے یاد آیا باغ میں ہر وقت چھاؤں رہتی ہے۔ پھر وہ اورجگہ گئی جہاں ندی بہ رہی تھی۔وہاں آکر اس نے کہا کہ گندم کے اگنے کے لیے  پانی اور دھوپ دونوں بہت ضروری ہیں۔ لیکن یہاں لڑکے مچھلیوں کا شکار کرنے آتے ہیں ۔گندم کے دانوں کو وہ اپنے جوتوں کے نیچے مسل دیں گے۔اس کے لیے یہ جگہ مناسب نہیں ۔ دانا بونے کے لیے اسے مناسب جگہ نہیں مل رہی تھی۔ کبھی ادھر جاتی کبھی ادھر جاتی۔یہاں تک کہ اس کے ننھے بچے تھک کے چور ہوگئے۔ اور رونے لگے۔ آخر کار ایک وقت وہ کسان کے کھیت میں پہنچے۔ وہ جگہ گیلی گیلی تھی۔  آیا ! یہ شاندار جگہ ہے۔یہاں پانی بھی ہے اور دھوپ بھی خوب آۓ گی۔مجھے  دانا یہاں بونا چاہیے.Untitled-2
مرغی نے وہ دانا فوراَ اپنا دانا وہاں بو دیا۔ دن گزرتے گئے ۔مرغی اپنی فصل کی حفاظت کرتی رہی اور پانی دیتی رہی۔ آخرکار فصل تیار ہوگئی مگر اسے پرندوں کو بھی اڑانا .پڑتا تھا۔ وہ اپنے پروں کو زور سے پھڑ پھڑا کر پرندوں کو اڑاتی تھی۔وہ ایک جگہ سے اڑتے وہ دوسیری جگہ آکر بیٹھ جاتے۔مرغی کے تین دوست تھے کتا،بلی اور بطخ۔ وہ تینوں بڑے درجے کے سست اور  کاہل تھے۔ایک دن وہ تینوں مرغی کو ملنے اس کے گاؤں آۓ۔مرغی نے کہا “دیکھو کام بہت زیادہ ہوتا ہے ۔میں اکیلیی تھک جاتی ہوں کیا تم میری مدد نہیں کر سکتے۔؟

ان تینوں نے کہا ہم تھکے ہوۓہیں اور وہاں سے چلے گۓ ۔مرغی نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل کام کرتی رہی ۔مرغی کے چوزے کہیں سے   ریڑھی لے آۓ تاکہ اس میں گندم کے دانے ڈالیں اور چکی پر پسوانے لے جائیں ۔راستے میں مرغی کو اس کے تینوں دوست ملے ۔۔۔ مرغی نے ان سے دوبارہ کہاکہ میں تھکی ہؤئی ہوں میراساتھ دو۔ یہ مسنتے   ہی تینوں بھاگ کھڑے ہوۓ۔
مرغی اور چوزوں نے دانوں کی بوری ریڑھی پر رکھی اور آٹا پسوا کے لے آۓ۔گھر آکے آٹا گوندھا اور اس کی روٹی پکائی ۔ کتے ،بلی اور بطخ کو مزیدار روٹی کی خوشبو آئی تو وہ بھاگتے ہوۓ آگۓ ۔۔۔
کتے نے کہا دیکھا ہم کل سے بھوکے ہیں کھانے کو کچھ نہیں ملا تو مرغی نے کہا۔ : کہ اس دنیا میں صرف وہی لوگ کھاتے ہیں جو خود محنت کرتے ہیں۔

Views All Time
97
Views Today
1
(Visited 128 times, 1 visits today)

5 Comments

  1. hassan abdullah

    nice writing but developer is not good

  2. وانیہ آپ کی کہانی بہت خوبصورت لکھی ہوئی ہے۔ اور مجھے بہت اچھی لگی۔ اگلی کہانی میں بندر کا بھی ذکر ہونا چاہیے۔

  3. Bhut khoob……..
    Wania …….

  4. abdul basit

    great effort chachu ki jaan, you are my proud

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

two × two =