وحید احمد……………تحریر محمد سعید اللہ قریشی

  اپریل 2001 میں حلقہ تخلیق ادب ٹیکسلا کو جوائن کیا اور 3 سال میں کئی دوستوں کی کتابیں یہاں آئیں مگر چھوٹا ہونے کے \ باعث کئی قریبی دوستوں نے مجھے اپنی کتاب سے محفوظ رکھا۔ نوکری کے سلسلے میں جب مجھے کراچی جانا ہوا تو میرے پاس کسی شاعر کی ہاتھ سے لکھ کر دی ہوئی کتاب نہیں تھی میں وہ خوش قسمت آدمی ہوں کہ مجھے میری زندگی کی پہلی ہاتھ سے لکھی ہوئی کتاب سلیم کوثر نے دی، جب کہ شخصیت یا کلام پر پہلا مضمون لکھا تو وہ شخصیت وحید احمد ہے

وحید احمد، اردو نظم کی کروٹ

ادبی جھاڑ جھنکار کے اس جنگلی اور وحشی دور میں نرم ، سبز ،لچکیلی، ٹھنڈی اور خوشبودار نظم کہنے والا وحید احمد، جس کی نظم خُشک فلسفے، جگالی یافتہ ما بعد الطبیعات، اور عصری فیشن زدہ لفظیات، سے یکسر پاک، مگر مشاہداتی ذہانت تجرباتی زاویے اور شاعری کے اُجلے پن سے لبریز ہے۔وحید احمد نظم کہتے ہوئے عوام کے زاویے سے ہٹ جاتا ہے (جو کہ تقریبا ہر شاعر کو کرنا چاہیے) مگر ایسا نہیں کہ وہ خواص کی جگہ جا بیٹھتا ہے۔ بلکہ وہ ان دونوں کے مابین کچھ ایسے زاویے پر جا کر نظم کی مشاہداتی بُنت کرتا ہے کہ اس کی نظم کی منظر نگاری ایک الگ جہان کا پتہ دیتی ہے۔ مثلا شفافیاں میں شامل ایک نظم میں بیٹی کی رخصتی کا سماں باندھتے ہوئے ماں کے بارے وحید یوں لائن کہتا ہے کہ

“ذرا سنبھل کے جو اس نے چرخے کی مُٹھی پکڑی تواس کے پاؤں کے نیچے دھرتی کا پاٹ گھوما۔” اس سطح کا مشاہدہ اس لمحے تک ممکن نہیں جب تک بیٹی کی جدائی کا دُکھ ماں جیسے سینے میں نہ منایا جائےبلکہ ایسا اوسان باختہ گرنا یا گرتا دیکھنااور اس لمحے کو بھی تخلیقی لو دے کر سنبھال رکھنا انتہائی زرخیز دماغ کا کام ہے۔

وحید اپنے دکھ کا اظہار اس نفیس اور رواں انداز سے کرتا ہے کہ سطحی حظ اٹھانے والا قاری بھی متاثر ہوئے بنا نہیں رہتا مگر ذرا سا غور کرنے پر وہی حظ قاری کو دُکھیلا کر جاتا ہے نظم گھر کا پتہ بتاتا ہوں “سفید ممٹی کے نیچے دیوار و در لگے ہیں، یہ میرا گھر ہے” یہ وہ منظر ہے جس کو دیکھنے کے لیے آنکھوں کا چار یا چھ ہونا نہیں بلکہ انوکھا زاویہ نگاہ ہونا ضروری ہے اور “:”ساتھ دیوار و در لگے ہیں ۔ یہ میرا گھر ہے”:” پنچ لائن کی تعریف بتاتی ہوئی لائن ہے۔مجھے یہاں وحید احمد دیواروں اور گھروں کے فرق اور دُکھ کو افتخار عارف سے زیادہ بہتر فنکاری سےایلے بوریٹ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ2006 کی بات ہے جب اکادمی کے ایک نمبر میں وحید احمد نام کے ایک شخص کی نظم “پانی سے میرا گھر نکلتا ہے” چھپی۔ اس نظم میں کم از کم میرے نزدیک انتہائی نئے واقعے کو نظم کیا گیا تھا۔ اس نظم کا آغاز ہی اس قدر دلچسپ انداز میں کیا گیا اور پھر اس میں استھیٹک سینس بنا محسوس کروائے ایسے “پور” کی گئی کہ سانس لینے کے بعد لائن دوبارہ پڑھنے کا جی چاہتا ہے۔

…………………………..

ہاں جب سردیوں میں ڈیم کا پانی اُترتا ہے تو میں پتھر چُنے مخروط کی نیلی وریدی سرد ریلنگ کے سہارے جھیل کی شکنوں میں ڈھلتے نرم سورج کا گھلاؤ دیکھتا ہوں

یہاں سے ڈیڑھ سو میٹر نے نیلے فاصلے پر جو کلیجی رنگ کی ٹکیا ہے چوٹی تھی پہاڑی کی

اور اُس پر وہ جو گہرے ارغوانی رنگ کا گیلا کھنڈر ہے

وہ میرا گھر تھا

…………………………………

وہ تازہ ادھ کٹے میٹھے چمکتے ناریل

جیسی پھسلتی نیند تھی

جو صبح صادق سے ذرا پہلے ہوا کرتی ہے

میری ماں نے جب کچی گری کے نیند

کے پیالے کو اُلٹا اور مرے چہرے پہ اپنا

تر بہ تر رخسار رکھ کر کانپتی آواز میں کہنے لگی

منصور اُٹھو ! آب و دانہ اُٹھ گیا ہے

آخری بس کوچ کا بھونپو بجاتی ہے

………………………………

و یہ نظم ایسی تھی کہ جس نے مجھے وحید احمد نامی شاعر کا پتہ دیا اور میں سمجھا کہ وحید احمد تقریبا 43-44 سال کا ہو گا گھرے کالے بالوں، محتاط گھنی مونچھوں اور کالے فریم کا سٹائلش سا چشمہ پہنتا ہو گا۔مگر ملاقات کے بعد پتہ چلا کہ وہ تو میرے گمان سے زیادہ پیارا ہے۔ وحید کی نظم کی طرف واپس لوٹوں گا۔ وحید کی ایک نظم جس کا تاثر اتنا حیرا ن کُن انوکھا اور اتنا قدرتی ہے کہ کوئی اس کی منظر کی بوکھلاہٹ سے بچ نہیں سکتا۔یہ نظم وحید کی وہ خاص نظم ہے جسے میں بے پناہ قربت کا دعویدار بھی وحید کے منہ سے نہ سن سکا۔ باپ کے مرنے پہ نوحہ وہ نظم ہے جو وحید احمد ہمیشہ سنانے سے انکار کرتا ہے بلا شبہ یہ نظم سکھاتی ہے کہ آنکھوں کا کام دیکھنے کے علاوہ رونا بھی ہے۔

…………..

او پتھرائے ہوئے پہلو بچا کر،

بے نیازآنکھیں جما کر،

سب سے گہری نیند میں سوئی ہوئی مٹی تُو میرا باپ ہوتا تھا

……………..

پچاسی سال نیچے گر گئے تھے ” ایک اور سہولت سے کہی گئی نظم ہےجس میں الفاظ کو رنگ بنا کر نظم کے کینوس کو جا بجا تصاویر سے بھر دیا گیا ہے۔ مگر اس کا کرافٹ اتنی دلچسپ اور لگا کھاتی مثالوں سے بھرا پڑا ہے کہ ایک ایک لائن شدت سے گفتگو کی متقاضی ہے۔ کہتے ہیں ایسا دروازہ کبھی مت کھولو جسے تم بند نہ کر سکو۔ وحید احمد کی تینوں کتابوں میں کوئی ایک نظم ایسی نہیں جسے عجلت یا فنکارانہ غربت کے باعث وقت سے پہلے جن دیا گیا ہو، ثابت و سالم مکمل اور صحت مند نظمیں ہی ہمیں ملتی ہیں۔

اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ وحید احمد کے ہاتھوں اردو ادب سے زیادتی بھی ہوئی۔ اور وہ یہ کہ وحید کی نظم پڑھنے کے بعد بے شمار شوقین حضرات نے نظم کو فیشن کے طور پر سر پر سوار کیا اور غزل میں ٹامک ٹوئیاں مارتے مارتے اس ترو تازہ صنف کو بھی رگید ڈالا۔اور آج نظم گو شاعروں کی “کھمبیانہ بڑھوتری” ہو رہی ہے “رسول حمزہ توف ایک جگہ ایک کہانی لکھتے ہیں کہ

ایک دفعہ ایک ناکام شاعر نے سنہری مچھلی پکڑی اور مچھلی نے استدعا کی کہ مجھے چھوڑ دیا جائے اورمیں تمہاری ساری خواہشیں پوری کروں گی۔شاعر بہت خوش ہوا اور نت نئی کامیابیاں اس کے قدم چومنے لگیں۔اس کے مجموعے دھڑا دھڑ بازار میں آنے لگے، اسے انعامی گھر، تمغے شہرت سب کچھ مل گیا۔ بہت دنوں بعد جب وہ مرکزی اکادمی اور پارلیمنٹ کا ممبر بن چکا تو ایک دن اس کی بیوی نے کہا کہ جان اگر تمہیں اتنا موقعہ ملا تو کیوں نہ اس مچھلی سے تھوڑی سی صلاحیت ہی مانگ لی؟ تب شاعر کو احساس ہوا کہ اس کی زندگی میں کچھ کمی تھی وہ بھاگتا ہوا سمندر کنارے پہنچا اورکہا پیاری مچھلی مجھے تھوڑی سی صلاحیت بھی دے دو۔ مچھلی نے کہا میں تمہیں سب کچھ دیتی رہی اور دیتی رہوں گی مگر شاعری کی صلاحیت تو خود میرے پاس بھی نہیں” لہٰذا صلاحیت نہ تو دی جا سکتی ہے اور نہ ہی لی جا سکتی ہے۔ یہ یا تو ہوتی ہے اور یا نہیں۔

اس تمام گفتگو کے بعد میں یہ کہتے ہوئے بھی عار محسوس نہیں کروں گا ، کہ میں وحید احمد کی نظم پر لکھنے کا حق ادا کرنے کے قابل نہیں ہاں ان سے صرف اپنے ظرف کے مطابق شعوری حظ اٹھا سکتا ہوں۔ وحید کو جاننے کے لیے کسی بھی مضمون مذاکرے یا تھیسس کی بجائے سیدھا اس کی نظم کو پڑھنا کافی ہو گا بھلا میں آئس کریم کے ذائقے یا پھول کی خوشبو پائے بنا کیسے انہیں کیسے ڈیفائن کر سکتا ہوں بلکہ خوشبو یا ذائقہ پا کے بھی ڈیفائن کرنا تقریبا نا ممکن ہے پھول دیکھا اور سونگھا جاتا ہے، آئس کریم چکھی جاتی ہے، تاہم شاعری محسوس کی جاتی ہے ڈیفائن کرنا نا ممکن کام ہے۔ میں پینے والی چیز کھا نہیں سکتا شاعری (اچھی شاعری) حظ اٹھانے کے لیے ہوتی ہے بھلا خوبصورت لڑکی کو دیکھنے یا پیار کرنے کی بجائے اس کا پوسٹ مارٹم کرنا کتنا عجیب ہے میں وحید کی نظم کا عاشق ہوں اور اس کی محبت کا شکار ہوں

،

 

Views All Time
104
Views Today
1
(Visited 83 times, 1 visits today)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

nine + 4 =