یہ بے خواب

image-sufyan-aftab
Image: Sufyan Aftab

یہ بے خواب نیابتوں والی نادر راتیں

غوثوں ، کتبوں ، ابدالوں کی چادر راتیں

 سارے جہان پر قادر راتیں

کشف وشہود کے دروازے پر دستک زن ہیں

لات و منات خوف شکن ہیں

خوابوں کے کمخواب میں دب کے

بندے یکتا رب کے

اپنے جوہڑ بھی کھوچکے ہیں کب کے

آبلہ فریب وجوودں کے شجرے

فسق و فجور سے جا ملتے ہیں

حرس و ہوا کے برجوں میں

روحوں کے سعد و نحس ستارے

آ ملتے ہیں ! ۔

سکر وکیف کے عالَم میں

مجذوب بدن سے باہر آکر چیختا ہے

گدلے حوض تو پاک نہیں ہیں”

سات سمند پار کی ساری غلاظتیں

ان پہ  تیرتی ہیں

کیسا وضو اور کیسی عبادت؟

کیا تطہیر ہے اور کیسی نجابت؟

کام تیمم سے چلتا ہے

نیکی اور طہارت سے پر

”مٹی بھی کمیاب ہوئی

حدِ یقین تک آنے والے

بطلِ جلیل، نجیب، مطہر

وہموں کے گلشن کی خوشبو

ریشمی چوغوں اور قباؤں کے رسیا ہیں

لیکن اپنی نخوتوں اور وجاہتوں کے

چوڑے چڑھتے دریا ہیں! ۔

کون کہے کبھی مخفی چاند

طلوع بھی ہوگا

دورِ نور شروع بھی ہوگا

Views All Time
88
Views Today
1
(Visited 40 times, 1 visits today)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

1 × one =