تصویر ٹھیک کیجیے ۔۔۔ نقشہ خودبخود ٹھیک ہو جاۓ گا

عموماََ میں جب بھی کسی ٹیکسی میں بیٹھ جاتا ہوں تو رسمی گفتگو کے بعد اس ٹیکسی والے سے چند بنیادی سوالات پوچھ لیتا ہوں کوشش ہوتی ہے کہ اگر اس شخص کی زندگی کے بارے میں یا معاشرے کے بارے میں کوئی منفی رویہ ہوتا ہے تو اسے مثبت رویے میں تبدیل کیا جائے، لیکن اس دن جب میں گھر جانے کیلئے حاجی کیمپ اڈے سے ٹیکسی میں بیٹھ گیا تو اس سے پہلے کہ میں اپنا رسمی کاروائی شروع کر لیتا ٹیکسی ڈرائیور کی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی اس نے کہا سر ایک سوال پوچھوں ، میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو اس نے کہا یہ بتاو کی اس ملک نے ہمیں کیا دیا ؟
اس کے بعد اس نے پاکستان کے مسائل پر ایک پر جوش تقریر کرنا شروع کیا ،لمبی گفتگو کے بعد وہ مجھ سے یہ توقع کر رہا تھا کہ میں اس کیلئے ایک تماشائی کی طرح تالیاں بجاؤں اور اس کے ہاں میں ہاں ملا دوں ، لیکن میں نے اس سے کہا کہ مجھے یہ بتاو کی آپ نے اس ملک کیلئے کیا کیا ہے اب تک ، تو وہ چائینہ موبائل کی طرح ہینگ ہوگیا اور اسکی بیٹری ختم ہوگئی۔ یہ تو میں نے ایک شخص کی بات کی اپ اس معاشرے کے کسی بھی طبقے کے فرد سے ملیں اس کے پاس اسی طرح کے سوالات کا باقاعدہ رجسٹر ملے گا اور وہ جس سے بھی ملتا ہے اور جب بھی اس کے زبان پہ کوئی بات ہوتی ہے تو وہ ہمیشہ یہی رونا روئے گا کی اس ملک نے ہمارے لئیے کیا کیا ؟
اس وقت اس ملک کی جو صورت حال ہے وہ اس مریض جیسا ہے جو سخت بیماری کی حالت میں بستر پر پڑا ہو اور جو اس کے عیادت کیلئے آتے ہیں وہ یہی کہتے ہیں کہ جناب آپ کی حالت تو بہت خراب ہو چکی ہے ، اب آپ کے ٹھیک ہونے کی کوئی سبیل نہیں ، تو اس مریض کی صحت ٹھیک ہونے کی بجائے اور خراب ہوتی جائے گی بالکل یہی رویہ ہمارا بھی ہے اس ملک کے ساتھ ،  میں مانتا ہوں کہ اس ملک میں مسائل موجود ہے ، میں مانتا ہوں کہ ہمیں بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہیں ، لیکن ہمیں چاہئیے کہ ہم ان چیلنجز کا سامنا کریں اور ان مسائل کے حل کیلئے کوئی عملی اقدامات کریں بجائے اس کے ہم صرف باتیں کریں اور اس ملک کے مسائل میں اور اضافہ کریں ۔
وہ مثال بار بار ذہن میں آتی ہے کہ ایک صاحب اپنے گھر میں مطالعہ کر رہے تھے ان کا چھوٹا سا بچہ بار بار ان کے مطالعے میں مخل ہورہا تھا ان صاحب نے بچے کو بہت سمجھایا ، کھلونے دیے مگر بچہ باز نہ رہا ۔ بالآخر ان صاحب کو ایک ترکیب سوجھی کہ بچے کو بلایا اور قریبی پڑی اخبارات کے انبار میں سے ایک صفحہ پر مشتمل اسے دنیا کا نقشہ نکال کر دکھایا اور اس میں بچے کو مختلف مقامات کی نشاندہی کی کہ یہ پاکستان یہ امریکہ ، یہ سعودی عرب وغیرہ وغیرہ۔
پھر اس نقشے کو ٹکڑے کیے اور بچے کو دے دیے کہ بیٹھا پھر سے اسے بنا کر لائیں ۔ باپ سوچ رہا تھا کہ تین چار گھنٹے کیلئے فراغت ہوئی مگر بچہ تو چند منٹ بعد آگیا اور کہنے لگا : ابو! ابو! دنیا کا نقشہ ٹھیک ہو گیا ۔ باپ نے دیکھا سب مقامات اپنی اپنی جگہ پر صحیح ہیں ، بچے کی طرف دیکھا اور اس کے ذہانت پر تعجب ہوا پوچھا : بیٹے یہ کارنامہ تم نے کیسے انجام دیا ؟ بیٹے نے جواب دیا : ابو جب آپ نقشے کے ٹکڑے کر رہے تھے تو اس وقت میں نے دیکھا کہ اس کے  پیچھے آدمی کی بڑے سی تصویر بنی ہوئی ہے بس میں نے اس تصویر کو ٹھیک کرلیا دنیا کا نقشہ خود بخود ٹھیک ہوگیا ۔
ہم چایتے ہیں کہ اس ملک کا نقشہ ٹھیک ہوجائے یہ ملک پر امن ، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بن جائے ، جہاں پر تعلیم ہو ، سب کیلئے روزگار کے مواقع ہوں ، انصاف سب کیلئے ہو ، کسی پر ظلم نہ ہو ، ناحق خون نہ بہے ، ہم ایک دوسرے کے دشمن بننے کی بجائے ایک دوسرے کے بھائی بن جائے تو ہمیں بھی اس بچے کی طرح سب سے پہلے تصویر ٹھیک کرنی پڑے گی۔ اور یہ تصویر ہماری اپنی ہی ہو ، ہمیں اس تصویر کو اپنے ذہن میں نقش کرنا ہے ، اسے سمجھنا ہے ، اس کے ٹکڑون کو منظم کرنا ہے اور اسے بہت جلد صحیح کرنا ہے تاکہ ہمارے معاشرے اور اجتماعی نظام میں مثبت اور خاطر خواہ تبدیلی آجائیں اور بلآخر اس ملک کا نقشہ ٹھیک ہوجائے ۔

Views All Time
129
Views Today
1
(Visited 47 times, 1 visits today)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

16 − 13 =