پاکستانی عوام پر سی پیک کی سکیورٹی کے لیے مزید ٹیکس لاگو

حکومتِ پاکستان نے سی پیک پروجیکٹ  پر سکیورٹی کی مد میں 1 فیصد اضافی لاگت لگانے لگانے کا عندیہ دیا ہے ۔ اضافی رقم بجلی کے کسٹمرز پر ٹیکس لگا کر عام شہریوں سے وصول کی جاۓ گی اور حکومت اپنے بجٹ میں سے کچھ بھی ادا نہیں کرے گی۔

اکانومک کوورڈینیشن کمیٹی نے سمری منظور کرلی ہےاور  سی پیک کی تمام رقم پر 1 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔

یہ ایک فیصد رقم جو گورنمٹ وصول کرے گی ڈائریکٹ ملٹری اکاؤنتس میں سی پیک سکیورٹی کے لیے جمع ہوگی۔

دستاویزات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ اور آئندہ شروع ہونے والے پروجیکٹس پر 34 بلین ڈالر مالیت کے اخراجات ہوں گے ۔ ایک فیصد اضافہ کا مطلب ہے 34 ملین ڈالر کا اضافہ کیا جاۓ گا۔ جو کہ سکیورٹی کی بہترین سہولیات کی فراہمی پر خرچ ہوں گے۔

عام پاکستانی شہریوں کی معاشی حالت کی پرواہ کیے بنا گیس اور بجلی کے بلوں پر اضافی ٹیکس لگا کر اکھٹا کیے جائیں گے جو کہ ایک خطیر رقم ہے ۔

گورنمٹ کے مطابق : ہماری معاشی حالت اتنا مستحکم نہیں ہے کہ گورنمٹ یہ خطیر رقم اپنی جیب سے ادا کر سکے ۔ اسی مجبوری کے تحت عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کی نوبت پیش آرہی ہے۔ پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے عوام پر یہ جز وقتی ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے ۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب بجلی و گیس صارفین پر کسی بھی ضروری امر کے لیے اضافی بوجھ ڈالا گیا ہو بلکہ اس سے قبل بارہا صارفین پر گورنمٹ کی جانب سے مختلف اخراجات کی تکمیل کے لیے مختلف  جز وقتی و کل وقتی ٹیکس عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

اب تو یہ معمول کی بات بن گئی ہے کہ کسی بھی خسارے کو مکمل کرنا ہو یا گورنمٹ نے کوئی نیا پروجیکٹ شروع کرنا ہو توانائی کے صارفین پر اضافی ٹیکس عائد کر دیا جا تا ہے

Views All Time
205
Views Today
1
(Visited 64 times, 1 visits today)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

1 × four =