ماس خور مانوش

پختہ تر ہو کے ابھی خام ہے ابنِ آدم

عقل مریخ سے ہو آئی ہے کیا بگڑا ہے؟

میں کہ انسان ہوں جنگل میں ابھی رہتا ہوں

یعنی تاریکی کی اقلیم کا باسی ہوں انسان میرا اسم ہے

کمزور میرے لقمے ہیں

روشنی عصرِ مہذب کی ہے بیکار

کہ فرعون ابھی زندہ ہیں

زرگر و چارہ گر و اِفسوں گر

!!دلبر و دیدہ ور و جلوہ گر

روشنی رستہ مرا روک سکے گی کیسے؟

بے نوا جسموں پہ گرتا ہوں بجلی کی طرح

سیلِ نفرت مری گھٹی میں ہے انمول ہوں میں

مجھ  کو تجھ سے جو محبت ہے ریا کاری ہے

اس کو مجھ جو محبت ہے فقط دھوکا ہے

آدمی میں ہوں کہ انسان مرا اسم ہے

میں زندہ ہوں

موت مرے لیے اک کھیل ہے

صیاد ہوں میں

کوئلو ، بلبلو ، خرگوشو ، غزاالو سن لو

مری خوراک ہو تم

میں ہواؤں میں عقاب 

اور سمندر میں نہنگ 

بھیڑیا شہر میں 

جنگل میں پلنگ

حاکمِ عالَمِ ارواحِ ضعیفاں میں ہوں

مالکِ جانِ غریباں میں ہوں

مجھ کو نمرود بھی کہ سکتے ہو 

شداد بھی کہ سکتے ہو

کہ تاریکی کی اقلیم کا باسی ہوں انسان مجھے کہتے ہیں  

Views All Time
119
Views Today
1
(Visited 53 times, 1 visits today)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

sixteen − twelve =