Urdu Poet Firaq gorakhpuri

شاعری ہو کہ نثر نگاری دونوں انکشافِ حقیقت کا آئینہ ہیں ۔ تخلیقِ فن کی صحیح وضاحت مقصدی ادب کی نمائیندہ ہونے کے علاوہ انسانی رشتوں کی سنہری کڑیاں ہیں اور یہی کڑیاں خودشناسی و آگہی کا نقشِ رنگیں ابھارتی ہیں اور غموں کی رہگزر میں چراغ بن کر ہر لمحہ مستقبل کو تابناک کرکے زندگی کو نئی صبح سے روشناس کراتی ہیں ۔ فراق صاحب کی یہ خوش نصیبی ہے کہ ان کی وفات کے بعد انکی موافقت اورمخالفت میں لکھنے والے نقاد نے جنم لیا کیوں کہ محض تعریف نے بہت سے شعراء حضرات کو گمنام کر دیا ۔

Firaq Gorakhpuriجگن ناتھ آزاد رقم طراز ہیں

“ہمارے ہاں ہر اچھے شاعر کو بڑا شاعر کہا جاتا ہے “

فراق صاحب پیدائشی حسن پرست تھے ۔ اور ستم ظریف دیکھیے ان کی بیوی بد صورت تھی اوران کی سیرت میں بھی کوئی خاص کشش نہ تھی شائستگی سے انہیں کوئی سروکار نہ تھا ہاں وظیفہٰ زوجیت ادا کرتے رہے مگر قلبی رحجان پیدا نہ ہوسکا نتیجتاََ ہم جنسی میلانات سے آزاد نہ ہوسکے اور وہ عملی امرد پرستی کا شکار ہوگۓ ۔

فراق کی شخصیت میں بغاوت کا عنصر بھی موجود تھا۔ ازدواجی زندگی کی نا کامی ، جنسی رویے کی نا پختگی اور شخصی بغاوت نے ہم جنسیت کے بارے میں ان کے مخصوص رویے کو جنم لیا جس پر وہ کبھی بھی نادم نہ ہوۓ

امرد پرستی پر انہوں نے بڑا ریاض کیا ہے اپنی الٹی سیدھی دیلیلوں سے پورے جزب وانہماک کے ساتھ یقین دلانا چاہتے تھے کہ یہ ثواب کا کام ہے

لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ فراق کے ہاں حسن وعشق میں ازلی کھینچاتانی کا پہلا اظہار بھی ان کے ہم جنسی عشق میں ہوا

وصال کوبھی بنا دے جو عین درد فراق

اسی سے چھوٹنے کا غم سہا نہیں جا تا

ازل سے جو نہ مٹ سکی وہ بے کسی تھی عشق کی

تری   نگاہِ     لطف     نے   ہزار     آسرا         دیا

فراق کی شاعری میں وصل و فراق ہی کا فرق نہیں مٹتا بلکہ عاشق و معشوق کا فرق بھی ختم ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ان کے ہاں محبت کا اندازہ ناز و نیاز نہیں ہوپا تا

حسن سر تا پا تمنا ، عشق سر تا سر غرور

اس   کا  اندازہ  ناز و نیاز سے  ہوتا   نہیں

محبت و عشق کے حسیں جزبے سے سرشار ،عریانیت پسندی کے مناظر میں گرفتار ، چاہتوں کے نمکیں سمندر کے آثار ، لب و لہجہ کی کرختگی کے شکار ، کیف ومستی کے ملبوس میں شہسوار، دین ودھرم کے پیچ و خم سے آزاری کے سبھی مناظر ان کی شاعری میں بکھرے پڑے ہیں جہاں ہر اک شعر میں سینکڑوں  فلسفے اور ہزاروں محبت کی کتھائیں ملتی ہیں

 اگر خدا بھی ملے تو نہ لے ارے ناداں

ہے تو ہی کعبہ دیں ، تو ہی قبلہ حاجات

 اٹھ بندگی سے مالکِ تقدیر بن کے دیکھ

کیا وسوسہ عزاب کا کیا کاوشِ نجات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاید مرے سوا کوئی اس کو سمجھ سکے

کس طرح اک نظر سے بدلتی ہیں ہستیاں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر ہوں ، گہری نیند میں ہیں حقیقتیں

چونکا رہے ہیں ان کو بھی میرے توہمات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جن شعراء کو اردو غزل کی نشاۃِ ثانیہ کہا جاتا ہے ان سے فراق صاحب بہت اعلی مرتبہ پا گۓ اسی سے ان کی ذہنی و فکری شعری ریاضت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔انہوں نے اگر ایک طویل ریاضت کے ذریعے اپنی منفرد آواز کو پانے کی جستجو نہ کرتے تو وہ فراق ہر گز نہ بن پاتے۔ یہی ریاضت وجستجو ان سے کہلواتی ہے

میں نے اس آواز کو مرمر کے پالا ہے فراق

آج جس کی نرم لو ہے شمع محرابِ حیات

فراق صاحب کا انگریزی ادب  نہ صرفکثیر مطالَعہ تھا بلکہ ان کو انگریزی ادب پر عبور حاصل تھا  اور یہی انگریزی و اردو ادب کا امتزاج ان کی غزلیات کو اردو جدید غزل میں نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کیٹس کا مصرع ہے

some shape of beauty moves away the fall from our dash spirit

اور اس سے ملتا ہوا فراق کا شعر ہے

بہت  آہستہ  اٹھتی  ہے  نگاہ  شاعرِ   فطرت

رخ آہستہ سے چادر سی مگر سرکا ہی جاتی ہے

فراق نظیر اکبر آبادی کی طرح میلوں ٹھیلوں ، رسوم و رواج وغیرہ کی ترجمانی اور مصوری نہیں کرتے بلکہ ہندوستانی کلچر کی روح شاعری میں پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے اردو شاعری میں ہندی روایات کے ملاپ سے اردو غزل کو ایک نئی فضا اور ایک نئے ذائقے سے آشنا کیا۔ یہ نیا ذائقہ اور نئی فضا ایک بڑی تہذیب کو دوسری بڑی تہذہب کے طرزِ احساس میں ملا دینے سے خلق ہوا۔اسی سلسے  میں چند اشعار دیکھیۓ

دلوں کو تیرے تبسم کی یاد یوں آۓ

کہ جگمگا اٹھیں جس طرح مندروں میں چراغ

یہ آگیا ہے یہاں کون کافر معصوم

کہ ٹھنڈی پڑگئی دوزخ کے بھی عذاب کی آنچ

دلوں میں داغِ محبت کا اب یہ عالم ہے

کہ جیسے نیند میں ڈوبے ہوں پچھلی رات چراغ

آخر میں ایک غزل کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں

اک نیم اشارہ نیم ادا میری بے خبری کی بھی طرف

اے نرگسِ لالہ کچھ تو بتا میں کس عالم میں رہتا ہوں

اے موجِ نسیم مجھی سے ہے پنکھڑیوں کی رگ رگ میں خلش

میں فصلِ بہاری کے دل میں کانٹا سا  کھٹکتا رہتا ہوں

اے جانِ جہاں ناز و نعم میں ہوں اک پیکرِ رنج و الم

اک چشمِ کرم ِ اک پرسشِ غم ، کن امیدوں سے آیا ہوں

اپنا ہو فراق کہ اوروں کا کچھ بات ہی ایسی آن پڑی

میں غزل کے پردے میں دکھ درد سنانے بیٹھا ہوں

Views All Time
253
Views Today
1
(Visited 126 times, 1 visits today)

2 Comments

  1. جواد حسنین بشرؔ

    عبد الحمید بخاری آپ کا یہ مضمون پڑھ کر خوشگوار حیرت سے وسطہ پڑا۔ مضمون قابلِ داد ہے اور آپ کی زیرک نگاہی کا غماز بھی۔ خوبیوں سے مزین اس تحریر پر آپ کو بہت داد۔ شکریہ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

four + 7 =